بادشاہ اور غریب میں فرق
ایک بادشاہ بڑا رحم دل اور نیک مزاج تھا مگر اس کا بیٹا یعنی شہزادہ اتنا بے رحم اور تلخ مزاج کہ جب دیکھو غصے میں تیوری چڑھاۓ ہوۓ نوکروں کو ڈانٹتا ڈپٹتا اور مارتا پیٹتا ہی نظر آتا۔ بادشاہ کو یہ خبریں پہنچتیں تو اسے بہت رنج ہوتا۔ بہتیرا اشاروں ميں سمجھایا مگر بیٹے پر ذرا اثر نہ ہوا۔
تھوڑے عرصے بعد شہزادے کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ اتفاق دیکھۓ کہ اس کے خدمتگار کے گھر بھی عین اسی وقت ایک لڑکا پیدا ہوا۔
بادشاہ نے محل میں جا کر دونوں لڑکوں کو ایک پلنک پر لٹا دیا اور شہزادے کو بلا کر کہا۔ "تم ان میں سے اپنا لڑکا پہچان لو۔
شہزادے نے دونوں لڑکوں کو ایک سا دیکھ کر جواب دیا۔ "میں تو نہیں پہچان سکتا۔
باپ نے کہا۔ غریب اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں؟
شہزادے نے جواب دیا۔ مجھے تو کوئی فرق نظر نہيں آتا۔
باپ نے کہا بے شک کوئی فرق نہیں اور جب خدا نے کوئی فرق نہیں رکھا تو تم کیوں فرق رکھتے ہو؟
شہزادہ شرمندہ ہو گیا اور اس کے بعد نوکروں پر کبھی سختی نہ کی۔








بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق
بادشاہ اور غریب میں فرق