لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آسکتا ہے کہ حضور اور صحابہ کے پاس پیسہ ہے ہی نہیں تھا وہ قیصر کسری جیسے مہنگے لباس کیسے پہنتے ، اعلی کھانے کیسے کھاتے، اعلی سواریوں پر کیسے گھومتے ، جدید ٹیکنالوجی سے کیسے فاعدہ اٹھاتے۔؟ یہ کہنا بھی غلط ہےکیوں کہ الله تعالیٰ کی طرف سے تو رسول پاک کو پیش کش تھی کہ مکہ کے پہاڑ کو سونا چاندی اور ہیرے بنا دیں ، لیکن رسول پاک صلی الله علیہ وسلم نے یہ منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ ایک دن کھانا ملے گا تو کھا کر شکر کروں گا دوسرے دن اگر کھانا نہ ملے تو صبر کر لوں گا ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب اسلام اور مسلمانوں کو شوکت عطا ہوئی اور چہار اطراف سے مالِ غنیمت کے انبار چلے آنے لگے۔ اس حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ لاکھوں دینار آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چند گھنٹوں میں ضرورت مندوں کو عطا کردیتے اور خود ہاتھ جھاڑ کر اٹھ جاتے۔ اس زمانے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دو دو تین تین ماہ تک چولہا نہ جلتا۔
آپ عموماً فقر وفاقہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، ایک بار حضرت عمررضی اللہ عنہ کا شانۂ نبوت میں تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں جس پر کوئی بستر نہیں ہے، جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں پہلو میں بدھیاں پڑ گئی ہیں، توشہ ٔخانہ میں مٹھی بھر جو کے سوا اورکچھ نہیں، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، ارشاد ہوا کہ عمررضی اللہ عنہ کیوں روتے ہو؟ عرض کیا کیوں نہ رؤں آپ کی یہ حالت ہے، اور قیصروکسریٰ دنیا کے مزے اُڑارہے ہیں، فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران کے لئے دنیا ہو۔
(مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)
حضرت عمر کے زمانے میں باوجود کہ مال بے انتہا آیا لیکن حضرت عمر نے سادگی پر سب کچھ باقی رکھا۔ پیسہ کتنا ہی ہو، لیکن زندگی سادہ اور جب عمر نے انتقال فرمایا تو چھیاسی ہزار کا قرضہ ان پر تھا اور بیٹے کو ادا کرنے کی وصیت کی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بچی آئی تو پوچھا یہ کس کی بچی ہے جو اتنی کمزور ہے ؟ صاحبزادوں نے کہا حضرت! آپ کی بچی ہے ۔ فرمایا کیوں اتنی کمزور ہو گئی؟ کہنے لگے آپ کی وجہ سے ، آپ زیادہ تنگی کرتے ہیں ۔ فرمایا اپنی کمائی سے اس کا علاج کرو۔ اس انتظار میں مت رہنا کہ اجتماعی مال سے دوں گا، منع کر دیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مکانات پکے بن گئے ، مسجد نبوی پکی بن گئی ۔ کھانا لوگوں کا بڑھیا بن گیا، مگر ان کی اپنی زندگی خود سیدھی سادی تھی۔ حضرت علی کوفے میں ہیں او رایک چادر میں ہیں اور سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں ۔ کسی نے کہا کہ حضرت بڑے بڑے کمبل آئے ہیں اوران میں سے ایک لے لیں۔ فرمایا جو چادرمیں نے لی ہے وہ مدینہ سے آئی ہے ۔
سلطان صلاح الدین ایوبی اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیت ہیں۔ وہ فاتح بیت المقدس ہیں۔ لیکن جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر پورے جنوبی ایشیا کے حکمران تھے اور ان کا دورِ حکومت پچاس سال پر محیط ہی، لیکن وہ ذاتی گزربسر کے لیے ٹوپیاں سیتے تھے اور طغرے بناتے تھے۔
حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی اور بے تکلف زندگی ان لوگوں کے سامنے تھی، حقیقت میں جب تک یہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن نقوش اور پاکیزہ سنتوں پر عمل کرتی رہی‘ کامیابیاں اور کامرانیاں اس کا مقدر بنیں اور جب سے آپ کی سنتوں کی اتباع اور پیروی میں سستی اور کاہلی در آئی‘ اس وقت سے امت فتنہ و فساد اور ظلم کی لپیٹ میں آگئی ، آج اگر کوئی یہ کہے کہ مسلما ن تعلیم اور ٹیکنا لوجی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے یا مال ودولت کی کمی کی وجہ سے قیادت وسیادت سے ہاتھ کھو بیٹھا ہے تو یہ اس کی حماقت اور بے وقوفی ہے، کیا جن مسلم ممالک نے تعلیم وٹیکنالوجی حاصل کی وہ آج تک ترقی کو پہنچ سکے ہیں ؟، کیا ہم نے تر کی اور ایران، ملیشیا، ترکستان، پاکستان، لیبیا،شام کونہیں دیکھا، کیا انہوں نے ٹیکنالوجی حاصل کرکے دنیا میں اپنا مقام بنایا؟ کیا روشن خیالی اورمغربیت کے نعرے نے ترکی کو کسی بھی میدان میں عزت سے ہم کنار کیا
امام مالک رحمہ اللہ کا ارشاد ہےاس امت کے آخری دور کے افراد کی فلاح وصلاح اسی چیز سے ہو سکتی ہے، جس سے پہلے لوگو ں کی ہوئی ۔ ذراصحابہ اور اسلاف کی تاریخ کی ورق گردانی کرکے دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی کامیابی کاراز سنت نبوی کے علاوہ اوراسوہٴ نبوی کے علاوہ کوئی چیز تھی ؟کیا ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس کوئی ٹیکنالوجی تھی؟ نہیں نہیں! و ہ اس زمانے کے صحیح ہتھیاروں سے بھی عاری تھے، مگر سنت پر چل کر ا ن کی دو سو کی جماعت بھی ہزار کو، دس ہزارکی جماعت اس زمانہ کی سُپر پاور قیصر وکسریٰ کی مسلح فوجوں کو شکست وہزیمت سے دوچار کر دیتی تھی۔
فتح بیت المقدس کے بعد جب حضرت عمرضی اللہ عنہ شہر کے قریب پہنچے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور سرداران فوج استقبال کو نکلے تو دیکھا کہ مسلمانوں کا بادشاہ جن کے نام کے غلغلہ سے روم و شام کانپ رہے تھے، بالکل معمولی لباس پہنے یا پیادہ آرہے ہیں تو ان کو محض اس خیال سے شرم معلوم ہوئی کہ ہمارے بادشاہ کو دیکھ کر عیسائی اپنے دل میں کیا کہیں گے۔ چنانچہ ایک اعلیٰ ترکی گھوڑا اور قیمتی پوشاک حاضر کی گئی۔ آپ نے فرمایا:
’’خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے، وہ صرف اسلام کی وجہ سے دی ہے اور وہی عزت ہمارے لئے کافی ہے۔







سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کامیابی کا زینہ