:: Jang Forum ::. Pakistan's Best Discussion Forum and Community Portal
September 08, 2010, 01:27:20 PM *
Welcome, Guest. Please login or register.

Login with username, password and session length

Click here to watch live Quran Urdu TV Channel
Quran Urdu TV

Click here to watch live Islam Channel
Islam Channel

Click here to watch live The Traweh TV - Makkah
Traweeh TV

Click here to watch live Quran Urdu Tafseer TV Channel
Dr. Israr Ahmed
Urdu or English

Click here to watch live Iqraa TV Channel
Peace TV

News: The .:: Jang Forum ::. is a very good platform to promote new ideas for the growth, development, progress and promotion of the country, its economy and industrialization.
   
  Home   Forum   Help Arcade Search Calendar Quran Flash Listen to Quran Urdu News Live TV Qiblah Gallery Contact Login Register  
Pages: [1]   Go Down
  Print  
Author Topic: امید ...مگر کس سے  (Read 61 times)
0 Members and 1 Guest are viewing this topic.
Libra71
Sr. Member
****

Rating: +1/-0
Offline Offline

Gender: Male
Age: 38
Location: Lahore
Posts: 434


OS:
Windows XP Windows XP
Browser:
Chrome 5.0.375.99 Chrome 5.0.375.99

« on: July 26, 2010, 08:37:42 AM »

انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات میں سے ایک ہے ۔ خطہ زمین پر پائی جانے والی یہ واحد مادی مخلوق ہے جس کوسب سے زیادہ اختیارات دیے گئے ۔ حتیٰ کہ اللہ سے محبت اور اس کی اطاعت کرنے کا اختیار بھی انسان پر چھوڑ دیا گیا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان بہت سے اختیارات رکھنے کے باوجود بڑ ا بے اختیاراور کمزور ہے ۔
 
اللہ اورانسان کے رشتے کے علاوہ اور بھی رشتے تخلیق کر دیے گئے جیسا کہ ماں باپ کا اولادسے رشتہ، بہن کا بھائی سے رشتہ۔ اور پھر دنیا میں رشتے بڑ ھتے چلے گئے اور رشتوں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ امیدیں بھی بڑ ھتی گئیں ۔مگر جب امیدیں دم توڑ نے لگیں تو اس کے ساتھ ہی رشتے بھی دم توڑ نے لگے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر رشتوں کے ساتھ امیدیں لگانا چھوڑ دیں تو رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں ، لیکن انسان امیدیں لگانا کیسے چھوڑ ے ؟
 
اللہ نے کہا ہے کہ مایوسی کفر ہے ۔ اللہ چاہتا ہے کہ صرف اسی سے امید لگائی جائے ۔کیونکہ انسان اتنا مکمل اور طاقت ور نہیں کہ اپنے ساتھ وابستہ تمام امیدوں کو پورا کر سکے ۔ دنیوی رشتے بنتے ٹوٹنے رہتے ہیں لیکن ایک رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا اور وہ اللہ اور انسان کا رشتہ ہے ۔کتنی ہی نافرمانی کے بعد جب انسان اللہ کی طرف ایک قدم بھی آگے بڑ ھاتا ہے تو اللہ اس کی طرف دو قدم آگے بڑ ھاتا ہے ۔ دنیوی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔انسان کا اللہ سے رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کی وجہ وہ یقین ہے جو انسان اللہ پر کرتا ہے ۔ انسان جانتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو میری ہر امید اور دعا پوری کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی نے فرمایا کہ ’’ اللہ سے جو چا ہو مانگو کیونکہ ممکن یا نا ممکن تو ہمارے نزدیک ہے اللہ کے نزدیک تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔۔‘‘
 
اس لئے اگر اس دنیا میں سچی خوشی چاہیے تو اللہ سے امیدیں لگانی چاہئیں اور انسانوں سے امیدیں کم کر دینی چاہئیں اور جوامیدیں انسانوں سے وابستہ کریں ، وہ بھی اللہ سے دعا کی صورت میں مانگنی چاہئیں اور اگر ہمارے جیسے نامکمل انسان ہماری امیدوں کو پورا نہ کر پائیں تو اسے قدرت کی حکمت سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے اور دوسروں سے کیے گئے اچھے سلوک کا ریوارڈاللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے کیونکہ ایک نا مکمل اور کمزور اور محدود اختیارات کا حامل انسان دوسرے انسان کی ساری امیدوں کو پورا نہیں کر سکتا ۔اس لیے آس اسی سے لگانی چاہیے جس کے پاس دینے کا پوراپورا اختیار ہے ۔
Logged
Pages: [1]   Go Up
  Print  
 
Jump to:  

Powered by SMF 1.1.11 | SMF © 2006-2009, Simple Machines LLC
TinyPortal v0.9.8 © Bloc | Sitemap
Page created in 0.086 seconds with 30 queries.

Google visited last this page September 06, 2010, 07:56:14 PM