: بیلجیئم میں برقعے پر پابندی کا بل آج پارلیمنٹ میں پیش ہورہا ہے۔فرانسیسی صدر نے بھی نقاب پر پابندی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔بیلجئیم کی پارلیمنٹ میں برقعے پر پابندی کا بل آج پیش کیا جارہا ہے۔اکتیس مارچ کو داخلہ امور کی پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر حجاب یا ایسا لباس پہنے پر پابندی عائد کی تھی جسے پہننے والے کی شناخت مکمل طور پر نہ ہوسکے۔خلاف ورزی پر بیس سے چونتیس ڈالر جرمانے یا سات دن قید کی سزا تجویز کی گئی تھی۔توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ بل آسانی سے منظور کرلیا جائے گا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے ملک بھر میں سڑکوں اور عوامی مقامات پر برقع یا اس سے ملتے جلتے لباس پہنے پر پابندی عائد کرنے کا بل آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق صدر نے فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کے بعد کیا۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ ملک میں نقاب پہنے پر عمومی پابندی ہونی چاہے کیونکہ نقاب پہننے سے عورت کی عظمت شک و شبہات کا شکار ہوتی ہے۔فرانس میں دوہزار چار میں تعلیمی اداروں میں نقاب پہننے اور مذہبی علامات سے متعلق چیزیں پہنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔فرانسیسی حکومت نے اب اس معاملے پر قانون سازی کا فیصلہ کر لیا ہے۔فرانس میں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ ہے۔