:: Jang Forum ::. Pakistan's Best Discussion Forum and Community Portal
May 18, 2012, 05:37:16 PM *
Welcome, Guest. Please login or register.
Did you miss your activation email?

Login with username, password and session length
News:
Hello and welcome to .:: Jang Forum ::. like most online communities you must register to post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information. Take advantage of it immediately register

There are many great features to Ask-n-Discuss about several subjects and topics...
   
  Home   Forum   Help Quran Flash Listen to Quran Qiblah News papers Live TV Arcade Gallery Login Register  
Pages: [1]   Go Down
  Print  
Author Topic: Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad  (Read 42 times)
0 Members and 1 Guest are viewing this topic.
maqsood hasni
Full Member
***

Rating: +0/-0
Offline Offline

Posts: 101


OS:
Windows XP Windows XP
Browser:
Microsoft Internet Explorer 7.0 Microsoft Internet Explorer 7.0

« on: February 22, 2012, 02:51:20 PM »


بلوچستان موجودہ حالات اور امریکی قرارداد

 

ایک شخص اپنے کھیت کی وٹ پر بیٹھا زاروقطار رو رہا تھا۔ کسی نے از رہ ہمدردی پوچھا:

 بھائ کیوں رو رہے ہو؟

اس نے جواب میں کہا: میرے کھیت کی وٹ پر سے سا نپ گزر گیا ہے۔

اس میں رونے والی کون سی بات ہے۔ سانپ ابھی تک بیٹھا ہوا تو تہیں ہے۔ گزر گیا‘ سو گزر گیا۔ لکیر پیٹنے کا کوئ جواز نظر نہیں آتا۔

اس نے دوبارہ جواب میں کہا: رستہ تو بن گیا ہے۔

پوچھنے والے نے زور دار قہقہ لگایا اور آگے بزھ گیا نا۔

 پوچھنے والے کا قہقہ بظاہر غلط معلوم نہیں ہوتا۔ بات ہوئ‘ ختم بھی ہو گئ۔ رات گئ بات گئ۔ اب اس کے حوالہ سے کسی قسم ردعمل لایعنی سا لگتا ہے۔ اگر غور کیا جاءے تو گزرے پر تاسف‘ فکرمندی یا احتیاط نہ کی جاءے گی تو آتے کل کو یہی انداز اور رویہ رواج پا جاءے گا۔ آج ایک گزرا کل دو پرسوں چار اور اس کے بعد  تعداد کا شمار کرنا بھی امکان میں نہ رہے گا اور یہ صورتحال کسی بہت بڑے حادثے کا موجب بن سکتی  ہے۔  کچھ بھی نہ ہو‘ ڈر اور خوف کے ساءے تو سر پر منڈلاتے رہیں گے۔ ڈر اور خوف کی حالت میں آدمی کچھ نہیں کر پاتا اگر کرتا ہے تو بار بار غلط کرتا ہے۔ آدمی کے پاس اتنی زندگی نہیں جو متواتر غلطیاں ہی کرتا چلا جاءے۔ آدمی کے لیے ایک وارنگ ہی کافی ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتدا ہی سے انتہائ سمجھ بوجھ اور احتیاط کام لینا چاہیے۔ ہو سکتا ہے دوسرا موقع میسر نہ آءے لہذا پہلا موقع کس حساب میں ہاتھ سے نکالا جاءے۔

 

امریکی کانگرس میں بلوچستان کے حوالہ سے رائ کے دانے کے برابر بات ہوئ ہو تو بھی معاملے کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ گا کہ ہم اپنے معاملات کے بارے میں غیر سنجیدہ‘ غفلت شعار اور لاپرواہ ہیں۔ آتے کل کو رائ پہاڑ بھی بن سکتی ہے۔ ہم رائ کے سامنے اگر ڈھیر ہو جاتے ہیں تو پہاڑ کا مقابلہ ہمارے باپ دادا قبروں سے نکل کر کریں گے۔ حال ماضی سے جڑا سہی لیکن ہر عہد کو اپنا معاملہ خود ہی کرنا اور بھگتنا ہوتا ہے‘ ہاں اس کے اثرات آتے کل پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

امریکی قرارداد کے حوالہ سے میڈیا گفتگو کر رہا ہے۔ اس حوالہ سے کام کیا ہو رہا ہے اس کا کہیں آتا پتہ نہیں۔

فردوس اعوان کا کہنا ہے: پاکستان کی سلامتی پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔

 شیری رحمن کا کہنا ہے قرارداد پر امریکہ کو سخت ردعمل سے اگاہ کر دیا گیا ہے۔

جب جان پر بن آءے تو جان بچانے کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 کیا ردعمل سامنے آیا ہے؟

ان کی رسد  روک  لی گئ ہے؟

تعاون سے ہاتھ کھنچ لیا گیا ہے؟

تعاون مشروط کر دیا گیا ہے؟

شدت پسندوں کو میز پر بلا کر گفتگو کی گئ ہے؟

ان کے موجود لوگ نظربند کر دءے  گءے ہیں؟

ان کے فوجیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟

کوئ علاقائ گٹھ جوڑ کر لیا گیا ہے؟

کوئ کراری اور پر تشویش دھمکی داغی گئ ہے؟

اس ذیل میں کوئ حکمت عملی بنا لی گئ ہے؟

قوم کو آگاہ کرکے اعتماد میں لیا گیا ہے؟

ناگوار حالات پیش آ جانے کی صورت کے لیے تیاریاں کر لی گئ ہیں؟

قوم تو ساری صورت حل بےخبر ہے۔ کوئ نہیں جانتا کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ لوگ زیادہ تر یہ جانتے ہیں کہ انتخاب کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس حوالہ سے ووٹ کی حصولی کے لیے حیلے حربے تلاشے اور تراشے جا رہے ہیں۔  ضروری کاروائ کے بغیر سوئ گیس کے پروانے جاری ہو رہے ہیں۔ جب وقت نکل جاءے گا لوگوں کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح خالی ہوں گے۔

ووٹ کی طاقت سے انقلاب مصطفی برپا کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

عوام ہیں کیا؟

عوام کی حیثیت کیا ہے؟

عوام سیاسی حوالہ سے کس مقام پر کھٹرے ہیں؟

فیصلوں یا دیگر قومی امور میں ان کا عمل دخل کیا ہے؟

عوام میں سے کوئ ایک بھی ایوانوں میں موجود ہے؟

عملی طور دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ جن سے ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں ان سے ہاتھ نہیں ملایا جاتا مبادہ ہاتھوں کو جراثیم لگ جاءیں گے۔

 

اقتدار پر درآمدہ‘ نیم پاکستانی‘ پیسے والے یا پھر وڈیرے قابض  رہے ہیں۔ عوام تو اقتدار حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے یا ان کا نام لے کر ووٹ حاصل کءے جاتے ہیں۔ امور میں وہ استعمال شدہ ٹیشو پیپر کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ بات کریں گے جوتے کھاءیں گے۔

یہاں تک سننے میں آ رہا ہے کہ سقوط بلوچستان کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد کوئ کیا کر لے گا۔ مشرقی پکستان گیا ۔ کیوں گیا؛ کون ذمہ دار تھا‘ ایک عام آدمی نہیں جانتا۔ ایوانوں میں روٹی ٹکر کھانے کے سوا بھی کچھ ہو رہا ہے‘ کوئ نہیں جانتا۔

اتفاق سے باندر جنگل کا بادشاہ  منتخب کر لیا گیا۔ ایک روز ایک بھیڑ شکایت لے کر آئ کہ بھیڑیے نے اس کا بچہ کھا جانے کی دھمکی دی ہے۔  باندر نے تین چار درختوں پر چھلانگیں لگاءیں اور بھیڑ سے کہا تم جاؤ میں کوشش کر رہا ہوں۔ اگلے دن بھیڑ نے آ کر بتایا بھیڑیا میرا آدھا بچہ کھا گیا ہے۔ ہاءیں بات یہاں تک پہنچ گئ ہے۔ اس نے بارہ تیرہ درخت پھلانگے اور کہا‘ جاؤ اب کچھ نہیں ہو گا۔ اگلے دن بھیڑ نے اطلاع دی کہ بھیڑیا بقیہ بھی چٹ کر گیا ہے۔ اس پر بندر بولا دیکھو میں نے تمہارے سامنے کتنی کوشش کی ہے۔ میں تو کوشش کر سکتا تھا۔ اگر کوشش میں کوتاہی ہوئ ہے تو کہو۔

سقوط ڈھاکھ کے حوالہ سے کتنے لوگ الٹا لٹکاءے گءے؟

سقوط ڈھاکھ کے حوالہ سے کیا کاروائ عمل میں لائ گئ‘ کوئ بتا سکتا ہے؟

بندر پاٹوسیوں سے بھلا کیا ہوتا ہے؟

سقوط بلوچستان کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس بیان کو دوبارہ پڑھیں کیا اس قسم کا بیان پڑھ کر رات کو نیند آ سکتی ہے؟

ذمہ داران رات کو سوءے ہیں اور وہ  آج رات کو بھی۔سوءیں گے۔

وہ جاگتے میں سوتے بھی سوتے ہیں۔ جاگنے والے سے وقت محتاط رہتا ہے اور اس کی طرف آنکھ اٹھانے کی حماقت نہیں کرتا۔

قاءم مقام امریکی سفیر کا کہنا ہے:  پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ بلوچستان سے متعلق قرارداد کا اوباما حکومت سے کوئ تعلق نہیں۔

منور حسن کا کہنا ہے: بلوچستان میں امریکہ اور بھارت‘ مشرقی پاکستان والا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔

الطاف  حسین کا کہنا ہے: حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے بلوچستان کو علیدگی کے دہانے پر لا کھڑا کیا  ہے۔

سنی اتحاد کونسل کا کہنا ہے: امریکہ بلوچستان کی علیدگی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ نیٹو سپلائ کی بحالی غداری ہے۔

محمد نواز رضا وقاءع نگار خصوصی کے مطابق: بلوچستان پر قرارداد علیدگی پسندوں کی اخلاقی حمایت سمجھی جا رہی  ہے۔

نظرہء پاکستان بورڑ آف گورنرز کے مطابق: بلوچستان پر قرارداد‘ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی مذموم سازش ہے۔

بی بی سی ڈاٹ کام کے مطابق: بلوچستان کے معاملات پر پارلیمنٹ‘ تشویش کی قرارداد منظور کر لیتی تو امریکی ڈرامہ نہ ہوتا۔

شاہین بکٹی کا موقف ہے: وفاقی حکومت بلوچستان کے مساءل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

طلال بکٹی کا کہنا ہے:عدلیہ نے بلوچوں کو مارنے اورغاءب کرنے والوں کو نہ پکڑا توملک ٹوٹ جاءے گا۔

 

تحریک انصاف کا موقف ہے: بلوچستان کی آزادی کی آواز دیار غیر میں ابھرنا حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

حافظ عبدالغفور حیدری کہتے ہیں: اس سے پہلے کہ امریکہ ملک کو دو لخت کرنے کی سازش میں کامیاب ہو‘ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔

حافظ محمد سعید  کہتے ہیں: بھارتی و امریکی سازش کءے جانے تک ملک دشمن  سازشوں کا خاتمہ مکن نہیں ہے۔

حریت کانفرس کا موقف ہے: امریکی قرارداد‘  پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

 

دفاع پاکستان کونسل کے نزدیک:  بلوچوں کے ساتھ ناانصافی امریکی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔

سردار اختر مینگل کے نزدیک: نوکریاں بچانے والے امریکی قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔

فاضل بزنجو کا موقف ہے: آرمی چیف مسلہ حل کرے۔

جنرل ڈیمپسنی کا کہنا ہے: ایران پرکوئ حملہ دانشمندی نہ ہو گی۔

ان تمام بیانات کے مطالعہ سے پانچ باتیں واضع ہو جاتی ہیں:

١۔ بلوچستان کا مسلہ خوفناک صورت اختیار کر گیا ہے‘ فوری سنجیدہ توجہ اور ہنگامی ایکشن کا متقاضی ہے۔

٢۔ اس مسلہ کے حوالہ سے کوئ مثبت سنجیدہ اور ہنگامی ایکشن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ہاں‘ کرسی بچاؤ مہم زوروں پر ہے۔

٣۔ ہر کوئ دوسرے سے امید لگاءے بیٹھا ہے اور مسلے کے حل کا ذمہ دار سمجھ رہا ہے۔

٤۔ امریکہ سجن نہیں‘ مطلب پرست ہے اور یہ سب اسی کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔

٥۔ امریکہ کا بلوچستان کے حوالہ سے مسلہ کوئ اور ہے اور وہ ہے ایران۔ وہ ایک تیر سے دو نشانے کرنا چاہتا ہے۔

آخر بلوچوں کے دل میں یہ نفرت کیوں ہے؟

 اس سوال کا جواب ہر بااختیار شخص جانتا ہے۔ جاننے کے باوجود خاموش کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب کوئ سلیمانی ٹوپی پہنے ہوءے نہیں ہے۔ یہ دونوں سوال اس وقت تک سوال ہی رہیں گے جب تک جینے کے لیے روٹی نہیں کھائ جاتی۔ سردست ان کی حکمت عملی یہی ہے وقت گزارو جو ہاتھ لگتا ہے جلدی سے سمیٹو۔ الله ناکرے‘ ناگوار حالات میں بستر بغل میں دبا کر کھسک جانا‘ ان کی روایت رہی ہے۔۔ امریکہ بھی خوش وہ بھی خوش۔ عوام جانیں اور ان کی جنم بھومی جانے۔ آتا وقت  زخموں پر مرہم رکھتے رکھتے گزر جاءے گا۔ عوام جو کیڑے مکوڑے ہیں‘ ان کا کیا کر لیں گے۔

پاکستان یوں ہی نہیں بن گیا۔ اس کی جڑوں میں آج بھی خون رواں دواں ہے۔ بڑی قربانیں دی گئ ہیں۔ مفاد پرست وڈیروں اور لٹیرا عناصر کا کچھ خرچ نہیں آیا اور نہ خرابی کی صورت میں کوئ دام اٹھے گا۔ پاکستا ن‘ بلوچ عوام‘ ایران‘ اور حالات پر نظر کرتے ہوءے کچھ کرنا ہو گا۔ آج بہت کم قیمت ادا کرنا پڑے گی لیکن آتے وقتوں میں آج کی نیند کے جواب میں سال ہا سال تک خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ان گھی شکرخور لیڈروں پر انحصار کءے رکھنا کھلی موت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلی موت۔

یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ غنڈہ اس وقت تک غنڈہ ہوتا ہے جب تک اس کی شوکر سے خوف طاری رہے گا۔ ہمارے پاس تجربہ موجود ہے کہ کتے کے آگے بھاگتے رہو‘ خلاصی نہیں کرے گا۔ کھڑے ہو جاؤ کچھ نہیں کہے گا۔ اینٹ اٹھانے کے لیے نیچے جھکو گے تو بھاگ اٹھے گا۔ کتا کتنا سدھارن ہو اس کی فطرت اس اصول سے برعکس نہیں ہوتی ہاں البتہ پاگل کتے کی  صورت مختف ہوتی ہے۔ اس کا علاج گولی اور صرف گولی ہوتا ہے۔

 

 

 

 
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Blochistan, mojoda halaat aur amriki qarar'daad
Logged
Pages: [1]   Go Up
  Print  
 
Jump to:  

Powered by SMF 1.1.16 | SMF © 2011, Simple Machines
TinyPortal v0.9.8 © Bloc | Privacy Policy | Disclaimer | Sitemap
Page created in 0.174 seconds with 35 queries.

Google visited last this page May 06, 2012, 08:45:35 AM