Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے
کہاجاتاہےکہ جمہوریت کی بساط ووٹ پر کھڑی ہے۔ کتنےاورکون سےووٹ کا نتاراکہیں اورکسی سطع پر نہیںملتا۔ یہ موضوع الگ سےگفتگو کا تقاضاکرتاہے تاہم یہ طےہےکہ جمہوریت میں عوام کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔ موری ممبرسےلےکرقومی اسمبلی کےمبرتک ایک عام اورغریب آدمی کے ووٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان منتخبہ لوگوں کےہاتھوں کی طرف صدر وزیراعظم وغیرہ دیکھتےہیں اوریہ نیچےکےہاتھ ناصرف اوپرآجاتےہیں بلکہ اپنےعرصہءاقتدارکےدوران اپنےپورےوجود کی برائ کےساتھ عوامی معاملات کو دیکھتےہیں۔ ان میںسےایک ہاتھ سب کےاوپر رہتا ہےاوروہ کسی ہاتھ قانون یا ریاست کےسامنےجوابدہ نہیں ہوتا‘ ہاں ہرکوئ اس کےحضور جوابدہ رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر یا کروا سکتا ہے۔ یہ معمہ حل طلب ہےکہ بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے۔ اس کےمساءل کو تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرکیوںچھوڑدیاجاتاہے۔ بھگوان سازکو چھوٹ ملنی چاہیےجبکہ بھگوان کواس کی بےاصولی اور ناقص بھگوانی کی صورت میں تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرچھوڑنےکی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام آفاقی اوردین فطرت ہے۔ یہ ہر قسم کی تفریق مٹاکرسوسائٹی میں توازن پیداکرتا ہےاور ہرکسی کو عزت احترام اور انسانی حقوق عطا کرتا ہے۔ بڑے چھوٹےکالےگورےوغیرہ کےحلقوں سےمکتی دلاتا ہے۔ اس کےضابطےاوراصول محض زبانی کلامی سےتعلق نہیں رکھتےبلکہ محمود وایازکوایک صف میں لاکھڑاکرتا ہے۔ حقوق وفراءض کے حوالہ سےکسی کو کسی معاملہ میں کسی سطح اور کسی مقام پر برتری یاچھوٹ حاصل نہیں۔ ہرکسی کو برابر کے شخصی اورانسانی حقوق حاصل ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ اصل مالک توالله ہے۔اگر کوئ کسی کو کچھ دیتاہےتواپنے پلےسے نہیں دیتا بلکہ الله کے عطا کءے گءے میں سےدیتا ہے۔ یہاں زمین پرکسی کا اپنا اورذاتی کچھ بھی نہیں۔ انسان اپنےسانسوںتک کا مالک نہیں۔ اس حقیقت کی بنیاد پر فخروافتخار کےتمام دروازےبند ہو جاتےہیں۔ یہ منہ زبانی بات نہیں اس کی تاریخ میں مثالیںموجود ہیں۔ حضرت عمرخلیفہ ثانی حضرت بلال کو “سیدنا“ کہا کرتےتھے۔ گویااسلام میں انسانی تفریق جرم کےمترادف ہے۔
اسلام صرف اور صرف صاحب تقوی کوفضیلت عطا کرتا ہے۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ حفوق میں اوروں سےبڑھ کرہوجاتاہےیا فراءض سےبری الزمہ ہو جاتاہے۔ اسےاسلام کسی بھی سطح پرالگ ترمخلوق قرارنہیں دیتا۔ فراءض کی بطریق احسن اداءگی کےسبب اسےعزت میسرآتی ہے۔ اس سےبڑھ کریہ کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ مزید باریک اورعاجز مزاج ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار اور جاندار ہو جاتاہے۔ وہ سوساءٹی کےلیےمثال بن جاتاہے۔ آتا وقت اسےسلام وپرنام کرتاہے۔ جس سماج میں اونچ نیچ کےلیے راہ نکل آتی ہے یا نکال لی جاتی ہےوہاں زندگی ہرسطح پر بےچین اور غیرآسودہ ہوجاتی ہے۔ پھرہرطاقت وارکےلیے چھوٹ کے رستےتلاش لیےجاتےہیں۔
چھوٹ کی سرحدیں وسیع ہونےکی میرے پاس ایک تازہ تازہ اورسانس لیتی مثال موجودہے۔ ایک اخباری اطلاع کےمطابق:
“خبریں کی خبر پر ایکشن‘ ڈیپٹی ڈاءرکٹر کالجز ظفرالله بھٹی کو عوامی مفاد کےپیش نظرتبدیل کردیاگیا‘سیکریڑی ہاءرایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ کی طرف سےجاری کردہ چھیثی کےمطابق ڈیپٹی ڈاءرکٹر کالجز کی سیٹ پرکام کرنےوالےظفرالله بھٹی کو ان کےعہدےسےہٹادیاگیاہےاوران کی جگہ پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کی تعیناتی کے احکامات جاری کردءےگءے ہیں۔ ظفرالله بھٹی کےخلاف متعدد کیسزانسانی اسمگلنگ کےجرم میں قاءم کءےگءے جن کی میڈیاکوریج ہونےپراعلی حکام نے ایک تحقیقا تی کمیٹی قاءم کی جس کی رپورٹ کےبعد سیکریڑی ہاءرایجوکیشن نے ظفرالله بھٹی کوعہدےسےبرطرف کرکے پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کو تعینات کردیا“(روزنامہ خبریں‘روزنامہ ایکپریکس لاہور)
لیکچرار ظفرالله بھٹی تعینات ڈی ڈی سی قصور جسےبرطرف کیا گیا تھا کودوبارہ سےبحال کردیا گیا ہے۔ اس کےتین چار معنی سمجھ میں آتے ہیں:
١۔ انکواری رپورٹ غلط تھی۔ معاملےکی تحقیق میں گڑبڑکی گئ
٣۔ کوئ عوامی لیڈراپنےمفادات کےحوالہ سے سد راہ بنا۔
٣۔ باباجی کوتکلیف دی کئ اور مفت میںمرغےکی گردن ماری گئ۔
٤۔ جرم کی سزامیں بااختیارلوگوں کو چھوٹ حاصل ہےاوریہ اختیاران تک ہی محدود نہیں
سزاصرف اورصرف کمزورکامقدربن جاتی ہے۔ ایسےسماج ذلت و خواری کی دلدل میں پھنس
کراپناوجود کھو دیتےہیں۔
درگزر معافی مٹی پاؤ کےحوالہ سے بات اس لیے ہوتی رہی ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس مٹی پاؤ برتاؤ کےباعث آج یہ نظریاتی مملکت بھوک پیاس اوراندھیروں کے جنگل میںکھوگئ ہے۔ مار دھاڑ اور لوٹ کھسوٹ زندگی کامقصد بن گی ہے۔ زندگی بےاعتبار ہو کر رہ گئ ہے۔
درگزر اور معافی بری جیز نہیں لیکن اسے چند لوگوںتک محدودرکھناکسی طرح درست نہیں۔ اس کاحلقہ وسیع ہونا چاہیے۔ معافی میںتمام کوشامل کر لینے سےاقتصادی حوالہ سےبڑافاءدہ ہوگابلکہ غیرمتوقع بچتیں ہوں گی اورکاروبارمیںتیزی آجاءےگی۔ اگرعام معافی کااعلان کردیاجاءےتواس پرکچھ خرچ نہیںآءےگا۔ ہاںاس سےبہت ساری عمارتیںخالی ہوجاءیں گی جہاں گریب عوامی لیڈر اپنے کاروبارکرسکیں گے۔ یہ عمارتیں انھیںالاٹ کردی جاءیں تاکہ آنےلوگ ان سےواپس نہ لےسکیں۔ ہردورمیںجاءدادیں اسی طرح عطاہوئ ہیں اسی طرح نوابی ان کامقدربنی اوروہ آج بھی نواب صاحب کے درجےپرفاءز ہیں۔ یہاںاس طرح کےوساءل کی کمی نہیںگویاآتےوقتوں کےعوامی لیڈر مرحوم نہیںرہیں گے۔ آج کی فکرضروری ہےکل کےلوگ اپنےمعاملات خود دیکھ لیں گے۔ وہ ہاتھ پیرعقل داؤپیچ اورگرلےکرپیداہوں گے۔ لہزا اس امرکی کی یکسر فکرنہیں ہونی چاہیے۔
عام معافی کےاعلان سےتین اوربھی فاءدےہوں گے:
١۔ قیدی اپنےاپنےکام کی طرف لوٹ سکیںگےاورانھیں مستقبل میںپکڑےجانےکاخوف نہیںہوگا۔
٢۔ ہزاروں محکمہ جیل خانہ جات کےملازمین پربےکاراٹھنےوالی رقم بچ جاءےگی اوریہ رقم عظیم ہاؤسزاوران کےباسیوں کی جان بنانےکےکام آسکےگی اوران کی ۔کار گزاری کوبہتربنایاجاسکےگا۔
٣۔ مہامنشی ہاؤس سےایک منسٹری فارغ ہوجاءےگی اس طرح اچھا خاصاعملہ فارغ ہوکرمحکمہ جیل خانہ جات کی عمارتوں کے مالکان کی خدمت سرانجام دےکرعوام کی داد و تحسین حاصل کرسکیں گےاوران کےدلوںمیںجگہ بناسکیں گے۔








Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!
Bhagwan'saz kami kamein kayoun ho jata hai?!